المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عمرة بنت رواحة الأنصارية " أخت عبد الله بن رواحة أم النعمان بن بشير " باب: سیدہ عمرہ بنت رواحہ انصاریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی بہن، نعمان بن بشیر کی والدہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا سَيَّارٌ، وَمُغِيرَةُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، وَمُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا - قَالَ إِسْمَاعِيلُ: نَحْلَهُ غُلَامًا - فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: ائْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأَشْهِدْهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا، وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلْتَنِي أَنْ أُشْهِدُكَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ: «لَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «وَكُلُّهُمْ أَعْطَيْتُهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتُ النُّعْمَانَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ: «هَذَا جَوْرٌ» ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «هَذِهِ تَلْجِئَةٌ أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي» ، قَالَ مُغِيرَةُ: «أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي» ، وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: «أَنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ مِنَ الْحَقِّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَبَرُّوكَ»وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے یہ بات ذکر کی اور عرض کیا: میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے، اور عمرہ نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ تمہاری کوئی اور اولاد بھی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: ”کیا تم نے ان سب کو بھی اتنا ہی دیا ہے جتنا نعمان کو دیا؟“ عرض کیا: نہیں، تو بعض راویوں نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ظلم ہے۔“ اور بعض نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مجبوری میں کیا گیا کام ہے، اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ۔“ مغیرہ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ وہ نیکی اور شفقت میں تمہارے نزدیک برابر ہوں؟“ عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: ”تو پھر اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ۔“ مجالد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کے درمیان انصاف کرو، جیسے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے ساتھ نیکی کریں۔“