❮
❯
حدیث نمبر: 21146
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّهِ سِيرِينَ، قَالَتْ: حُضِرَ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُلَّمَا صِحْتُ أَنَا وَأُخْتِي نَهَانَا عَنِ الصَّيَّاحِ، وَغَسَّلَهُ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَبَّاسُ، وَجُعِلَ عَلَى سَرِيرٍ، ثُمَّ حُمِلَ فَرَأَيْتُهُ جَالِسًا عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ إِلَى جَنْبِهِ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَنَزَلَ فِي قَبْرِهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا أَصِيحُ عِنْدَ الْقَبْرِ وَمَا نَهَانِي أَحَدٌ، وخُسِفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: النَّاسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُخْسَفُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ» وَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُرْجَةً فِي اللَّبَنِ، فَأَمَرَ أَنْ تُسَدَّ فَقَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَحَبَّ اللهُ أَنْ يُتْقِنَهُ» وَمَاتَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ عَشْرٍ "
ترجمہ

سیدہ سیرین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے پر موت کا وقت آیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب بھی میں اور میری بہن چیختیں تو آپ ﷺ ہمیں چیخنے سے منع فرماتے۔ انہیں فضل بن عباس، رسول اللہ ﷺ اور عباس رضی اللہ عنہما نے غسل دیا، اور ایک چارپائی پر رکھا گیا، پھر اٹھایا گیا، تو میں نے آپ ﷺ کو قبر کے کنارے بیٹھے دیکھا، آپ ﷺ کے پہلو میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر ان کی قبر میں فضل بن عباس اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم اترے، اور میں قبر کے پاس چیخ رہی تھی اور مجھے کسی نے منع نہیں کیا، اور اس دن سورج گرہن لگا، تو لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی وفات کی وجہ سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے کچی اینٹوں میں ایک شگاف دیکھا تو اسے بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب بندہ کوئی کام کرے تو اللہ پسند کرتا ہے کہ وہ اسے پختگی سے کرے۔“ اور وہ منگل کے دن، ربیع الاول کے چار دن گزرنے پر، سن 10 ہجری میں فوت ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21146
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 306، حدیث 776