المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
درة بنت أبي لهب بن عبد المطلب واسم أبي لهب عبد العزى باب: سیدہ درّہ بنت ابولہب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا (ابولہب کا نام عبدالعزیٰ تھا)
حدیث نمبر: 21027
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالُوا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنْ زَوْجِ، دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَجِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ نَادَاهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟، قَالَتْ: فَأَتَى الرَّجُلُ فَأَخَذَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَيْسَ لِي ذَنْبٌ أَمَرَنِي فُلَانٌ فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ أَتْقَاهُمْ، وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ، وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ»ترجمہ
سیدہ دُرّہ بنت ابولہب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے آپ ﷺ کو اس وقت پکارا تھا جب آپ ﷺ منبر پر تھے اور کہا تھا: یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ وہ کہتی ہیں: پھر وہ آدمی آیا اور پکڑا گیا، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرا کوئی قصور نہیں، مجھے فلاں شخص نے حکم دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ متقی ہو، سب سے بڑھ کر نیکی کا حکم دینے والا، سب سے بڑھ کر برائی سے روکنے والا اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔“