حدیث نمبر: 21026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ: عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: كَانَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ عِنْدَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفَلٍ فَوَلَدَتْ لَهُ عُقْبَةَ، وَالْوَلِيدَ، وَأَبَا مُسْلِمٍ، ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي أَبَوَيْهَا فَجَاءَتْ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا وَلَدَ الْكُفَّارُ غَيْرِي؟، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟، قَالَتْ: قَدْ آذَانِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي أَبَوَيَّ فَقَالَ، لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّيْتِ الظُّهْرَ فَصَلِّي حَيْثُ أَرَى» ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَكُمْ نَسَبٌ وَلَيْسَ لِي نَسَبٌ» فَوَثَبَ عُمَرُ فَقَالَ: غَضِبَ اللهُ عَلَى مَنْ أَغْضَبَكَ فَقَالَ: «هَذِهِ بِنْتُ عَمِّي فَلَا يَقُلْ لَهَا أَحَدٌ إِلَّا خَيْرًا»
ترجمہ

سیدہ دُرّہ بنت ابولہب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: مدینہ والوں نے میرے والدین کے بارے میں مجھے تکلیف دی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جب تم ظہر پڑھ لو تو وہیں کھڑی ہو جانا جہاں میں دیکھوں۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ظہر پڑھائی، پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”لوگو! کیا تمہارا نسب ہے اور میرا نسب نہیں؟“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا: اللہ اس پر غضب فرمائے جس نے آپ کو ناراض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اسے کوئی بھلائی کے سوا کچھ نہ کہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21026
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 257، حدیث 656