المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
درة بنت أبي لهب بن عبد المطلب واسم أبي لهب عبد العزى باب: سیدہ درّہ بنت ابولہب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا (ابولہب کا نام عبدالعزیٰ تھا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ: عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: كَانَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ عِنْدَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفَلٍ فَوَلَدَتْ لَهُ عُقْبَةَ، وَالْوَلِيدَ، وَأَبَا مُسْلِمٍ، ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي أَبَوَيْهَا فَجَاءَتْ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا وَلَدَ الْكُفَّارُ غَيْرِي؟، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟، قَالَتْ: قَدْ آذَانِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي أَبَوَيَّ فَقَالَ، لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّيْتِ الظُّهْرَ فَصَلِّي حَيْثُ أَرَى» ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَكُمْ نَسَبٌ وَلَيْسَ لِي نَسَبٌ» فَوَثَبَ عُمَرُ فَقَالَ: غَضِبَ اللهُ عَلَى مَنْ أَغْضَبَكَ فَقَالَ: «هَذِهِ بِنْتُ عَمِّي فَلَا يَقُلْ لَهَا أَحَدٌ إِلَّا خَيْرًا»ابن ابی حسین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدہ دُرّہ بنت ابولہب رضی اللہ عنہا، حارث بن عبداللہ بن نوفل کے نکاح میں تھیں اور ان سے ان کے ہاں عقبہ، ولید اور ابومسلم پیدا ہوئے۔ پھر وہ مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو لوگوں نے ان کے والدین کے بارے میں بہت باتیں کیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کافروں کی اولاد میں میرے سوا کوئی نہیں؟ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: مدینہ والوں نے میرے والدین کے بارے میں مجھے تکلیف دی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جب تم ظہر پڑھو تو ایسی جگہ پڑھنا جہاں میں (تمہیں) دیکھ سکوں۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ظہر پڑھائی، پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”لوگو! کیا تمہارا نسب ہے اور میرا نسب نہیں؟“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اچھل کر کھڑے ہو گئے اور کہا: اللہ اس پر غضب فرمائے جس نے آپ کو ناراض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اسے کوئی بھلائی کے سوا کچھ نہ کہے۔“