المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خيرة بنت أبي حدرد أم الدرداء ويقال لها هجيمة باب: سیدہ خیرہ بنت ابی حدرد رضی اللہ عنہا، ام درداء، جنہیں ہجیمہ بھی کہا جاتا ہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ، وَكَانَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ، تُحِبُّهُ فَأَتَاهَا فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، وَلَمْ يَجِدْ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقَالَتْ لَهُ: تُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟، قَالَ: نَعَمْ فَقَالَتْ: ادْعُ اللهَ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، عِنْدَ رَأْسَهِ مَلَكٌ يُؤَمِّنُ عَلَى دُعَائِهِ كُلَّمَا دَعَا لَهُ بِخَيْرٍ قَالَ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِراوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو نہ پایا، تو ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: کیا تم اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ سے خیر کی دعا کرنا، کیونکہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”مظلوم کی دعا اپنے غائب بھائی کے حق میں قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اس کی دعا پر آمین کہتا رہتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تمہارے لیے بھی ویسا ہی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر میں بازار کی طرف نکلا تو مجھے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے بھی مجھے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث سنائی۔