المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خيرة بنت أبي حدرد أم الدرداء ويقال لها هجيمة باب: سیدہ خیرہ بنت ابی حدرد رضی اللہ عنہا، ام درداء، جنہیں ہجیمہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 21022
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ يُحَنَّسَ أَبَا مُوسَى، حَدَّثَهُ: أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ: حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهَا يَوْمًا فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ جِئْتِ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ؟» ، قَالَتْ: مِنَ الْحَمَّامِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَنْزِعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا، وَبَيْنَ اللهِ مِنْ سِتْرٍ»ترجمہ
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ان سے ملے تو فرمایا: ”اے ام الدرداء! کہاں سے آ رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: حمام سے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت بھی اپنے گھر کے سوا کہیں اور اپنے کپڑے اتارتی ہے، اس نے اپنے اور اللہ کے درمیان پردہ چاک کر دیا۔“