المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خيرة بنت أبي حدرد أم الدرداء ويقال لها هجيمة باب: سیدہ خیرہ بنت ابی حدرد رضی اللہ عنہا، ام درداء، جنہیں ہجیمہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 21016
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ: خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ؟،» فَقُلْتُ: مِنَ الْحَمَّامِ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ إِحْدَى أُمَّهَاتِهَا إِلَّا كَانَتْ هَاتِكَةً كُلَّ سِتْرٍ بَيْنَهَا، وَبَيْنَ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى»ترجمہ
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حمام سے نکلی تو مجھے رسول اللہ ﷺ ملے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام الدرداء! کہاں سے آ رہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: حمام سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو عورت بھی اپنے کسی گھر والے کے گھر کے سوا کہیں اور اپنے کپڑے اتارے، وہ اپنے اور رحمٰن تبارک و تعالیٰ کے درمیان ہر پردہ چاک کرنے والی ہے۔“