المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة باب: سیدہ خولہ بنت یمان عبسیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن، انہیں فاطمہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 21000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ حُمَّ فَأَمَرَ بِسِقَاءٍ فَعُلِّقَ عَلَى شَجَرَةٍ، ثُمَّ اضْطَجَعَ تَحْتَهُ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَقْطُرُ عَلَى فُؤَادِهِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ دَعَوْتَ اللهَ فَكَشَفَ عَنْكَ فَقَالَ: «إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءَ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»ترجمہ
آپ ﷺ کو بخار تھا، تو آپ ﷺ نے ایک مشکیزہ منگوانے کا حکم دیا جو درخت پر لٹکایا گیا، پھر آپ ﷺ اس کے نیچے لیٹ گئے، تو پانی آپ ﷺ کے دل پر ٹپکنے لگا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش آپ اللہ سے دعا کرتے کہ وہ یہ آپ سے دور کر دے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کو ہوتی ہے، پھر ان کے بعد آنے والوں کو، پھر ان کے بعد آنے والوں کو۔“