المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة باب: سیدہ خولہ بنت یمان عبسیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن، انہیں فاطمہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 21001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ وَقَدْ عَلَّقَ سِقَاءً يَقْطُرُ عَلَى فُؤَادِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟، فَقَالَ: «إِنَا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ عَلَيْنَا الْبَلَاءُ»ترجمہ
سیدہ خولہ بنت الیمان رضی اللہ عنہا (حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن، ایک قول میں انہیں فاطمہ بھی کہا جاتا ہے) سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی جبکہ آپ ﷺ کو بخار تھا اور آپ ﷺ نے اپنے سینے پر ایک مشکیزہ لٹکا رکھا تھا جس سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت پر آزمائش دگنی کر دی جاتی ہے۔“