حدیث نمبر: 20999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، يُحَدِّثُ: عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: عُدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسَاءٍ وَقَدْ عَلَّقَ السِّقَاءُ يَقْطُرُ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحُمَّى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ دَعَوْتَ فَذَهَبَ عَنْكَ شِدَّتُهَا فَقَالَ: «أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ»
ترجمہ

سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی عیادت کے لیے گئی، اور مشکیزہ لٹکایا ہوا تھا جس سے بخار کی شدت کے سبب پانی ٹپک رہا تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش آپ دعا کرتے تاکہ اس کی شدت آپ سے دور ہو جائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کو ہوتی ہے، پھر نیک لوگوں کو، پھر درجہ بدرجہ نیکی میں قریب ترین لوگوں کو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20999
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 245، حدیث 629