المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت اليمان العبسية أخت حذيفة ويقال فاطمة باب: سیدہ خولہ بنت یمان عبسیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن، انہیں فاطمہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 20998
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ، أَنَّهَا: دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِسِقَاءٍ فَعُلِّقَ عَلَى شَجَرَةٍ، ثُمَّ اضْطَجَعَ تَحْتَهُ فَجَعَلَ يَقْطُرُ عَلَى فُؤَادِهِ فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ فَيَكْشِفُ عَنْكَ قَالَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»ترجمہ
راوی کی پھوپھی سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں، آپ ﷺ نے ایک مشکیزہ منگوایا جو درخت پر لٹکایا گیا، پھر آپ ﷺ اس کے نیچے لیٹ گئے، تو وہ آپ ﷺ کے دل پر ٹپکنے لگا، میں نے عرض کیا: اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ سے یہ دور کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کو ہوتی ہے، پھر ان کے بعد آنے والوں کو۔“