حدیث نمبر: 20803
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَمَعَتْ عَيْنا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ أَحَقُّ مَنْ عَرَفَ لِلَّهِ حَقَّهُ، فَقَالَ: «تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، وَلَوْلَا أَنَّهُ وَعَدٌ صَادِقٌ، وَمَوْعِدٌ جَامِعٌ، وَإِنَّ الْآخِرَ تَابَعُ الْأَوَّلِ لَحَزَنَّا أَكْثَرَ مِنْ هَذَا، وَإِنَّا يَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْكَ لَمَحْزُونُونَ»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی کریم ﷺ کی آنکھیں پرنم ہو گئیں، آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: آپ اس بات کے سب سے زیادہ حق دار ہیں کہ اللہ کا حق پہچانیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم ایسی بات نہیں کہتے جو رب کو ناراض کرے، اور اگر یہ سچا وعدہ اور سب کے اکٹھا ہونے کی جگہ نہ ہوتی، اور بعد میں آنے والا پہلے والے کے پیچھے جانے والا نہ ہوتا، تو ہم اس سے بھی زیادہ غمگین ہوتے، اور اے ابراہیم! ہم تم پر یقیناً غمگین ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20803
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 170، حدیث 432