المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن شهر بن حوشب باب: عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی شہر بن حوشب سے روایات
حدیث نمبر: 20802
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «أَتُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ؟» قُلْنَا: لَا، قَالَ: «أَفَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللهُ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟ أَدِّيَا زَكَاتَهُ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اور میری خالہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ہم دونوں کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟ اس کی زکاۃ ادا کرو۔“