❮
❯
حدیث نمبر: 20801
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ: " أُحَذِّرُكُمُ الْمَسِيحَ وَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَكُلُّ نَبِيٍّ قَدْ حَذَّرَ قَوْمَهُ، وَهُوَ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ، وسَأَحْكِي لَكُمْ مِنْ نَعْتِهِ مَا لَمْ يَحْكِ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلِي لِقَوْمِهِمْ: يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِهِ سِنُونَ خَمْسٌ جَدَبٌ حَتَّى يَهْلِكَ كُلُّ ذِي حَافِرٍ " فَنَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَبِمَ يَعِيشُ الْمُؤْمِنُونَ؟ قَالَ: " بِمَا يَعِيشُ بِهِ الْمَلَائِكَةُ، ثُمَّ يَخْرُجُ وَهُوَ أَعْوَرٌ وَلَيْسَ اللهُ بِأَعْوَرَ، وَبَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتَبٍ وَغَيْرِ كَاتَبٍ، أَكْثَرُ مِنْ يَتْبَعُهُ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ وَالْأَعْرَابُ، يَرَوْنَ السَّمَاءَ تُمْطِرُ وَهِيَ لَا تُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ تُنْبِتُ وَهِيَ لَا تُنْبِتُ، وَيَقُولُ لِلْأَعْرَابِ: مَا تَبْغُونَ مِنِّي؟ أَلَمْ أُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا؟ وَأُحْيِي لَكُمْ أَنْعَامَكُمْ شَاخِصَةً دُرَاهَا، خَارِجَةً خَوَاصِرُهَا، دَارَةً أَلْبَانِهَا؟ وَتُبْعَثُ مَعَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ مَنْ قَدْ مَاتَ مِنَ الْآبَاءِ وَالْإِخْوَانِ وَالْمَعَارِفِ، فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ إِلَى أَبِيهِ أَوْ أَخِيهِ أَوْ ذَوِي رَحِمِهِ فَيَقُولُ: أَلَسْتَ فُلَانًا؟ أَلَسْتَ تَعْرِفُنِي؟ هُوَ رَبُّكَ فَاتَّبِعْهُ، يَعْمُرُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، السَّنَةَ الْأُولَى كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرِ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةِ كَالْيَوْمِ، وَالْيَوْمِ كَالسَّاعَةِ وَالسَّاعَةِ كَاحْتِرَاقِ السَّعَفَةِ فِي النَّارِ، يَرِدُ كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا الْمَسْجِدَيْنِ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَسَمِعَ بُكَاءَ النَّاسِ وَشَهِيقَهُمْ، فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ فَاللهُ كَافِيَكُمْ وَرَسُولُهُ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے صحابہ کے درمیان یہ فرماتے سنا: ”میں تمہیں مسیح (دجال) سے ڈراتا اور خبردار کرتا ہوں، ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے، اور اے امت! وہ تم میں (ظاہر ہونے والا) ہے، اور میں تمہیں اس کے ایسے اوصاف بتاؤں گا جو مجھ سے پہلے انبیاء نے اپنی قوموں کو نہیں بتائے: اس کے نکلنے سے پہلے پانچ سال قحط کے ہوں گے یہاں تک کہ ہر کھر والا جانور ہلاک ہو جائے گا۔“ ایک شخص نے آپ ﷺ کو پکار کر کہا: یا رسول اللہ! تو مومن کس چیز پر زندہ رہیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز پر فرشتے زندہ رہتے ہیں، پھر وہ نکلے گا اور وہ کانا ہوگا جبکہ اللہ کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”کافر“ لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا، خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، اس کی پیروی کرنے والوں میں زیادہ تر یہودی، عورتیں اور دیہاتی ہوں گے، وہ دیکھیں گے کہ آسمان بارش برسا رہا ہے حالانکہ وہ نہیں برسا رہا ہوگا، اور زمین اگا رہی ہے حالانکہ وہ نہیں اگا رہی ہوگی، وہ دیہاتیوں سے کہے گا: تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ کیا میں نے تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش نہیں برسائی؟ اور تمہارے لیے تمہارے مویشیوں کو زندہ کر دیتا ہوں، ان کے کوہان اونچے، کوکھیں بھری ہوئی اور تھن دودھ سے لبریز ہیں؟ اور اس کے ساتھ شیاطین ان باپ دادا، بھائیوں اور جاننے والوں کی صورت میں بھیجے جائیں گے جو فوت ہو چکے ہیں، چنانچہ ان میں سے کوئی اپنے باپ یا بھائی یا کسی رشتہ دار کے پاس آ کر کہے گا: کیا تو فلاں نہیں؟ کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ یہ تیرا رب ہے، اس کی پیروی کر۔ وہ چالیس سال رہے گا، پہلا سال ایک مہینے کی طرح، مہینہ ایک ہفتے کی طرح، ہفتہ ایک دن کی طرح، دن ایک گھڑی کی طرح، اور گھڑی آگ میں کھجور کی شاخ جلنے کی طرح ہوگی، وہ ہر گھاٹ پر اترے گا سوائے دو مسجدوں (مکہ اور مدینہ) کے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ وضو کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں کے رونے اور سسکیوں کی آواز سنی، تو ان کی طرف واپس آئے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا: ”خوشخبری سنو، اگر وہ (دجال) اس حال میں نکلے کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو اللہ اور اس کا رسول تمہارے لیے کافی ہیں، اور اگر وہ میرے بعد نکلے تو اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20801
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 169، حدیث 430