حدیث نمبر: 20792
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي قَالَا: ثنا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ - قَالَ زُهَيْرٌ: أُرَاهُ قَالَ: - كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ، كُلُّ الْكَذِبِ يَكْتُبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ: رَجُلٌ يَكْذِبُ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا، أَوْ كَذِبَ رَجُلٌ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا، أَوْ رَجُلٌ كَذِبَ فِي خَدِيعَةِ حَرْبٍ " وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطاب کیا، فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا چیز اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ تم جھوٹ میں یکے بعد دیگرے پڑتے چلے جاؤ“ - زہیر (راوی) کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا: - ”جیسے پروانے آگ میں پڑتے چلے جاتے ہیں، ابن آدم پر ہر جھوٹ لکھا جاتا ہے سوائے تین خصلتوں کے: وہ آدمی جو اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولے، یا وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولے، یا وہ آدمی جو جنگ کے دھوکے میں جھوٹ بولے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20792
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 166، حدیث 421