❮
❯
حدیث نمبر: 20777
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابِلْتِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، وَهِيَ بِنْتُ عَمِّ مُعَاذٍ قَالَتْ: أَتَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ قَبْلَ خُرُوجِهِ ثَلَاثَ سِنِينَ أَوْ سَنَةً تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَتُمْسِكُ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةَ الثَّانِيَةَ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيَّ قَطْرِهَا، وَتُمْسِكُ الْأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةَ الثَّالِثَةَ تُمْسِكُ السَّمَاءُ مَا فِيهَا وَالْأَرْضُ مَا فِيهَا فَيَهْلِكَ كُلُّ ذَاتِ ضِرْسٍ وظِلْفٍ، وَمِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَقُولُ لِلْأَعْرَابِيِّ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ عَظِيمَةً ضُرُوعُهَا طَوِيلَةً أَسْنِمَتُهَا بَحْتَرٌ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيََتَمََثَّلُ لَهُ الشَّيْطَانُ " ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، وَوَضَعْتُ لَهُ وُضُوءَهُ وانْتَحَبَ الْقَوْمُ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَابَ فَقَالَ: «مَهْيَمْ؟» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ خَلَعْتَ قُلُوبَهُمْ بِالدَّجَّالِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يَخْرُجِ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِنْ مِتُّ فَإِنَّ اللهَ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ التَّسْبِيحَ وَالتَّقْدِيسَ»
ترجمہ

شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا نے، جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی چچازاد تھیں، بیان کیا، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کے نکلنے سے پہلے تین سال، یا ایک سال ہوگا جس میں آسمان اپنی بارش کا ایک تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا ایک تہائی روک لے گی، دوسرے سال آسمان اپنی بارش کا دو تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا دو تہائی روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنا سب کچھ روک لے گا اور زمین اپنا سب کچھ روک لے گی، یہاں تک کہ ہر دانت والا اور ہر کھر والا جانور ہلاک ہو جائے گا۔ اور اس کے سب سے بڑے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ بدو سے کہے گا: بتاؤ اگر میں تمہارے لیے تمہارے اونٹ زندہ کر دوں، بڑے تھنوں والے، لمبی کوہانوں والے، موٹے تازے، تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہارا رب ہوں؟ تو وہ کہے گا: ہاں، تو شیطان اس کے سامنے (اس شکل میں) آ جائے گا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ اپنی کسی ضرورت کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور میں نے آپ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، اور لوگ اتنی سسکیاں لینے لگے کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے دروازہ پکڑا اور فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کے ذکر سے ان کے دل نکال دیے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دجال نکلا اور میں زندہ ہوا تو میں ہی اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر میں فوت ہو گیا تو اللہ ہر مومن پر میرا جانشین ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو اس دن مومنوں کے لیے کیا کافی ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں وہی کافی ہوگا جو آسمان والوں کو تسبیح و تقدیس کافی ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20777
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 159، حدیث 406