حدیث نمبر: 20776
حَدَّثَنَا عَلَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَلَأٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيَّ السَّاعَةِ حَمْرَاوَاتٍ تُمْسِكُ أَوَّلَ سَنَةٍ مِنَ السَّمَاءِ ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضِ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةُ الثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيَّ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا، وَالسَّنَةُ الثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا، وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا حَتَّى لَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ وَحَافِرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَلَهُمْ حَنِينٌ فَأَخَذَ بِعَضُدَتَيِّ الْبَابِ فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا لَيَعْجِنُ عَجِينَهُ فَمَا يَصْبِرُ حَتَّى يَخْتَمِرَ قَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وإِلَّا فَإِنَّ اللهَ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مَا يُجْزِئُ الْمَلَائِكَةَ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں تھے، تو انہوں نے دجال کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے سرخ سال آئیں گے، پہلے سال آسمان اپنی بارش کا تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا تہائی روک لے گی، دوسرے سال آسمان اپنی بارش کے دو تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کے دو تہائی روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنی ساری بارش روک لے گا اور زمین اپنی ساری پیداوار روک لے گی، یہاں تک کہ کوئی کھر یا سم والا جانور باقی نہ رہے گا۔“ پھر آپ ﷺ اپنی ضرورت کے لیے باہر تشریف لے گئے، پھر واپس آئے جبکہ وہ صحابہ سسکیاں لے رہے تھے، تو آپ ﷺ نے دروازے کے دونوں بازو پکڑے اور فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی اپنا آٹا گوندھتا ہے تو خمیر اٹھنے تک صبر نہیں کر پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ نکلا اور میں تم میں موجود ہوا تو میں ہی اس کا مقابلہ کروں گا، ورنہ اللہ ہر مومن پر میرا جانشین ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو اس دن مومن کے لیے کیا کافی ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہی جو فرشتوں کو تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کافی ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20776
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 159، حدیث 405