❮
❯
حدیث نمبر: 20775
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيَّ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيَّ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا فَلَا تَبْقَى ذَاتُ ضِرْسٍ، وَلَا ذَاتُ ظِلْفٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَتْ، وَإِنَّهُ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَةٍ أَنَّهُ يَأْتِي الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيْطَانُ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا كَانَتْ ضُرُوعًا وَأَعْظَمُهَا أَسْنِمَةً، وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ، فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَحْيَيْتُ لَكَ أَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ لَهُ: بَلَى، فَيَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيْطَانُ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ " قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ فَأَخَذَ الْبَابَ وَقَالَ: «مَهْيَمْ؟» قَالَتْ أَسْمَاءُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ دَلَقْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ فَقَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ مُؤْمِنٍ» قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَقُلْتُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِينَنَا فَمَا نَخْبِزُ حَتَّى نَجُوعَ فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ: «يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ»
ترجمہ

شہر بن حوشب رحمہ اللہ سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے، تو آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کے آنے سے پہلے تین سال ہوں گے، ایک سال جس میں آسمان اپنی بارش کا ایک تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا ایک تہائی روک لے گی، دوسرے سال آسمان اپنی بارش کا دو تہائی روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کا دو تہائی روک لے گی، اور تیسرے سال آسمان اپنی ساری بارش روک لے گا اور زمین اپنی ساری پیداوار روک لے گی، یہاں تک کہ کوئی دانت والا اور کوئی کھر والا جانور باقی نہ رہے گا مگر ہلاک ہو جائے گا۔ اور اس کے سب سے بڑے فتنوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایک بدو کے پاس آ کر کہے گا: بتاؤ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہارا رب ہوں؟ تو وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ تو شیطان اس کے اونٹوں کی شکل میں اس کے سامنے آ جائے گا، ایسے تھنوں والے جیسے پہلے کبھی نہ تھے اور ایسی بڑی کوہانوں والے۔ اور وہ ایک ایسے آدمی کے پاس آئے گا جس کا بھائی اور باپ فوت ہو چکے ہوں گے، تو کہے گا: بتاؤ اگر میں تمہارے باپ اور بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہارا رب ہوں؟ تو وہ اس سے کہے گا: کیوں نہیں۔ تو شیطان اس کے باپ اور بھائی کی شکل میں اس کے سامنے آ جائے گا۔“ وہ کہتی ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ کسی ضرورت کے لیے باہر تشریف لے گئے، پھر واپس آئے جبکہ لوگ آپ ﷺ کی بیان کردہ باتوں سے فکرمند اور غمگین تھے، تو آپ ﷺ نے دروازہ پکڑا اور فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کے ذکر سے ہمارے دل ہلا دیے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ نکلا اور میں زندہ ہوا تو میں ہی اس کا مقابلہ کروں گا، ورنہ میرا رب ہر مسلمان مومن پر میرا جانشین ہے۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: تو میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! ہم اپنا آٹا گوندھتے ہیں تو ابھی روٹی پکاتے بھی نہیں کہ بھوک لگ جاتی ہے، تو اس دن مومنوں کا کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں وہی کافی ہوگا جو آسمان والوں کو تسبیح و تقدیس کافی ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20775
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 158، حدیث 404