المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هشام بن عروة، عن فاطمة باب باب: ہشام بن عروہ کی فاطمہ سے روایات — باب
حدیث نمبر: 20702
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ فَتَدْعُو بِمَاءٍ فَتَصُبُّهُ فِي جَنْبِهَا وَتَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» وَقَالَ: «إِنَّهَا مِنْ فَحِيحِ جَهَنَّمَ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تو وہ پانی منگواتیں اور اسے اس کے پہلو پر ڈال دیتیں اور فرماتیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“ اور فرمایا: ”یہ جہنم کی گرمی کی سسکار میں سے ہے۔“