حدیث نمبر: 20685
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ وَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى أَخَذَنِي دَوَارٌ، فَدَنَوْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ فَفَتَحْتُ رَأْسَهَا فَجَعَلْتُ أُصُبُّ عَلَى رَأْسِي، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، وَلَغَطَ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَجَعَلْتُ أُسْكِتُهُنَّ، فَقُلْتُ: يَا عَائِشَةُ، مَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي حَتَّى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ قَرِيبًا - أَوْ مِثْلَ - فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فِي قَبْرِهِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا، وَاتَّبَعْنَا فَيُقَالُ لَهُ: قَدْ عَلِمْنَا أَنَّكَ كُنْتَ تَقُولُ ذَلِكَ فَنَمْ صَالِحًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ الْمُرْتَابُ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي فَيُقَالُ لَا دَرَيْتَ فَيُغْلَظُ لَهُ فِي قَبْرِهِ "
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا، تو میں مسجد میں داخل ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، تو میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، اور اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا: کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے رہے اور قیام طویل کیا یہاں تک کہ مجھے چکر آنے لگا، تو میں مشکیزے کے قریب گئی اور اس کا منہ کھول کر اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز جاری رکھی یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، اور انصار کی کچھ عورتیں شور مچانے لگیں تو میں انہیں خاموش کراتی رہی۔ میں نے پوچھا: اے عائشہ! رسول اللہ ﷺ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”امّا بعد! کوئی ایسی چیز نہ تھی جو میں نے پہلے نہ دیکھی ہو مگر میں نے اسے اپنی اس جگہ میں دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی، اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم اپنی قبروں میں دجال کے فتنے کے قریب - یا اس جیسی - آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔ تم میں سے ہر ایک کے پاس اس کی قبر میں آیا جائے گا، اور اس سے کہا جائے گا: تم میں جو یہ آدمی تھا اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ تو مومن کہے گا: یہ محمد اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تو ہم نے قبول کیا اور پیروی کی۔ تو اس سے کہا جائے گا: ہمیں معلوم تھا کہ تُو یہی کہا کرتا تھا، پس نیکی کے ساتھ سو جا۔ اور منافق شک کرنے والا کہے گا: مجھے معلوم نہیں۔ تو اس سے کہا جائے گا: نہ تجھے معلوم ہوا، تو اس کی قبر میں اس پر سختی کی جائے گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20685
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 116، حدیث 314