المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هشام بن عروة، عن فاطمة باب باب: ہشام بن عروہ کی فاطمہ سے روایات — باب
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ، فَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ فَقُلْتُ: مَا لِلنَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ وَأَشَارَتْ أَيْ نَعَمْ، قَالَتْ: فَقُمْتُ حَتَّى جَاءَنِي الْغَشْيُ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِي الْمَاءَ، فَحَمِدَ اللهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَإِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ - أَوْ قَرِيبًا مِنْ - فِتْنَةِ الدَّجَّالِ - لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ - يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ - أَوِ الْمُوقِنُ، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ - فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا، وَآمَنَّا، وَاتَّبَعْنَا، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ صَالِحًا، قَدْ عَلِمْنَا أَنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ - أَوِ الْمُرْتَابُ، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ "سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت آئی جب سورج کو گرہن لگا، تو لوگ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، اور وہ بھی کھڑی تھیں، تو میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سبحان اللہ۔ میں نے پوچھا: کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اشارے سے کہا: ہاں۔ میں کھڑی ہو گئی یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی حمد کی، پھر فرمایا: ”کوئی ایسی چیز نہ تھی جو میں نے پہلے نہ دیکھی ہو مگر میں نے اسے اپنی اس جگہ میں دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی، اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم اپنی قبروں میں دجال کے فتنے کی مانند - یا اس کے قریب - آزمائے جاؤ گے - راوی کو یاد نہیں کہ کس لفظ کے ساتھ فرمایا - تم میں سے ہر ایک کے پاس آیا جائے گا اور کہا جائے گا: تمہیں اس آدمی کے بارے میں کیا علم ہے؟ تو مومن - یا یقین رکھنے والا، راوی کو یاد نہیں کہ کون سا لفظ تھا - کہے گا: محمد اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تو ہم نے قبول کیا، ایمان لائے اور پیروی کی۔ تو اس سے کہا جائے گا: نیکی کے ساتھ سو جا، ہمیں معلوم تھا کہ تُو مومن ہی تھا۔ اور منافق - یا شک کرنے والا، راوی کو یاد نہیں کہ کون سا لفظ تھا - کہے گا: مجھے کچھ معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔“