حدیث نمبر: 20686
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ، وَإِذَا هِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ، قَالَتْ: فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، قَالَتْ: فَحَمِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأثْنَى عَلَيْهِ حِينَ انْصَرَفَ، وَقَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَى أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ - أَوْ قَرِيبًا لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَالْمُؤْمِنُ - أَوِ الْمُوقِنُ، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا، فَيُقَالُ: قَدْ عَلِمْنَا أَنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا بِهِ يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ - أَوِ الْمُرْتَابُ، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ "
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو لوگ کھڑے تھے، اور وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں، تو میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سبحان اللہ۔ میں نے پوچھا: کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ میں کھڑی ہو گئی یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”کوئی ایسی چیز نہ تھی جو میں نے پہلے نہ دیکھی ہو مگر میں نے اسے اپنی اس جگہ میں دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی، اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی مانند - یا اس کے قریب - آزمائے جاؤ گے۔ تم میں سے ہر ایک کے پاس آیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس آدمی کے بارے میں کیا علم ہے؟ تو مومن - یا یقین رکھنے والا - کہے گا: یہ محمد اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تو ہم نے قبول کیا اور پیروی کی۔ تو کہا جائے گا: ہمیں معلوم تھا کہ تُو ان پر مومن تھا - یہ بات تین بار کہی جائے گی۔ اور منافق - یا شک کرنے والا - کہے گا: میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی کہہ دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20686
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 117، حدیث 315