المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هشام بن عروة، عن فاطمة باب باب: ہشام بن عروہ کی فاطمہ سے روایات — باب
حدیث نمبر: 20683
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: " كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فِي حُجْرَتِهَا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا عَائِشَةُ مَا شَأْنُ النَّاسِ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ وَأَشَارَتْ بِيَدِهَا، قُلْتُ: آيَةٌ؟ قَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ، وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا تَحْكِي أَيْ نَعَمْ " وَأَوْمَأَ أَبُو النُّعْمَانِ بِرَأْسِهِترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا، تو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ان کے پاس گئی، جبکہ نبی کریم ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں نے کہا: اے عائشہ! لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا: کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، اور اپنے سر سے اشارہ کیا یعنی ہاں۔“