المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو نوفل بن أبي عقرب العريجي، عن أسماء باب: ابونوفل بن ابی عقرب عریجی کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ، قَالَ: صَلَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ لِيُرِي ذَلِكَ قُرَيْشًا، فَلَمَّا أَنْ نَفَرُوا جَعَلُوا يَمُرُّونَ وَلَا يَقِفُونَ عَلَيْهِ حَتَّى مَرَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَقَدْ نَهَيْتُكَ عَنْ ذَا، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَقَدْ كُنْتَ صَوَّامًا قَوَّامًا تَصِلُ الرَّحِمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَاسْتَنْزَلَهُ فَرَمَى بِهِ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ، وَبَعَثَ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ تَأْتِيَهُ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا، فَأَبَتْ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا لَتَجِيئَنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ، قَالَتْ: وَاللهِ لَا آتِيَكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي، فَأَتَى رَسُولَهُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: يَا غُلَامُ نَاوِلْنِي سِبْتِيَّتِي، فَنَاوَلَهُ نَعْلَيْهِ فَقَامَ وَهُوَ يَتَوَدَّفُ حَتَّى أَتَاهَا، فَقَالَ لَهَا: كَيْفَ رَأَيْتِ اللهَ صَنَعَ بِعَدُوِّ اللهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ، وَأَمَّا مَا كُنْتَ تُعَيِّرُهُ بِذَاتِ النِّطَاقَيْنِ، أَجَلْ قَدْ كَانَ لِي نِطاقانِ: نِطَاقٌ أُغَطِّي بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّمْلِ، ونطاقٌ لَا بُدَّ لِلنِّسَاءِ مِنْهُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ فِي ثَقِيفٍ مُبِيرًا وَكَذَّابًا» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ ذَاكَ قَالَ: فَخَرَجَ "ابونوفل بن ابی عقرب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مدینہ (جانے والے راستے) کی گھاٹی پر سولی دی تاکہ قریش کو یہ دکھائے۔ جب لوگ (حج سے) کوچ کر کے چلے تو گزرتے جاتے اور ان کے پاس رکتے نہ تھے، یہاں تک کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرے تو ان کے پاس رک گئے اور کہا: السلام علیک اے ابوخبیب! یہ تین بار کہا، میں نے تمہیں اس (کام) سے روکا تھا، یہ بھی تین بار کہا، یقیناً تم بہت روزے رکھنے والے، بہت قیام کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے وہاں رکنے کی خبر حجاج کو پہنچی تو اس نے انہیں (سولی سے) اتروایا اور یہودیوں کے قبرستان میں پھینکوا دیا، اور سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ وہ اس کے پاس آئیں، جبکہ ان کی بینائی جا چکی تھی، تو انہوں نے انکار کر دیا۔ اس نے پھر انہیں پیغام بھیجا: تم ضرور آؤ گی، ورنہ میں تمہارے پاس ایسا شخص بھیجوں گا جو تمہیں تمہاری چوٹیوں سے پکڑ کر گھسیٹ لائے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس نہیں آؤں گی یہاں تک کہ تم میرے پاس ایسا شخص بھیجو جو مجھے میری چوٹیوں سے پکڑ کر گھسیٹے۔ اس کا قاصد اس کے پاس آیا اور اسے خبر دی تو اس نے کہا: اے لڑکے! میرے سبتی جوتے لاؤ۔ اس نے اسے اس کے جوتے دیے تو وہ اٹھا اور اکڑتا ہوا تیز تیز چلتا ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: تم نے دیکھا اللہ نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ تم نے اس کی دنیا بگاڑ دی اور اس نے تمہاری آخرت بگاڑ دی۔ رہا یہ کہ تم اسے ذات النطاقین (دو کمربندوں والی کا بیٹا ہونے) کا طعنہ دیتے تھے، تو جی ہاں، میرے دو نطاق (کمربند) تھے: ایک نطاق سے میں رسول اللہ ﷺ کا کھانا چیونٹیوں سے ڈھانپا کرتی تھی، اور دوسرا نطاق وہ جس سے عورتوں کو چارہ کار نہیں (یعنی وہ ضروری تہبند)۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”ثقیف میں ایک تباہ کن اور ایک جھوٹا پیدا ہوگا۔“ جہاں تک جھوٹے کا تعلق ہے تو ہم اسے پہچان چکے، اور جہاں تک تباہ کن کا تعلق ہے تو وہی تم ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ حجاج وہاں سے چلا گیا۔