حدیث نمبر: 20505
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، وَأَبِي، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُمَرَ عَلَى زَيْنَبَ، وَكَانَتْ أَوَّلَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْتًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُدْخِلُهَا قَبْرَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُدْخِلُهَا قَبْرَهَا؟ فَقُلْنَ: مَنْ كَانَ يَرَاهَا فِي حَيَاتِهَا فَلْيُدْخِلُهَا قَبْرَهَا "
ترجمہ

شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پڑھی، وہ نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سب سے پہلے فوت ہونے والی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پسند تھا کہ وہ خود انہیں قبر میں اتاریں، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ازواج کی طرف پیغام بھیجا: انہیں قبر میں کون اتارے؟ تو انہوں نے کہا: جو ان کی زندگی میں انہیں دیکھتا تھا وہی انہیں قبر میں اتارے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20505
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 50، حدیث 134