حدیث نمبر: 20504
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي وَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ: «أَوَّلُكُنَّ تَتْبَعُنِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا» قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَكُنَّا إِذَا اجْتَمَعْنَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمُدُّ أَيْدِينَا فِي الْحَائِطِ نَتَطَاوَلُ، فَلَمْ نَزَلْ نَفْعَلْ ذَلِكَ حَتَّى تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ، وَكَانَتِ امْرَأَةً قَصِيرَةً وَلَمْ تَكُنْ أَطْوَلَنَا، فَعَرَفْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ بِطُولِ الْيَدِ: الصَّدَقَةَ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَاعًا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدَيْهَا وَتَتَصَدَّقُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ "
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج سے فرمایا: ”تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے ملنے والی وہ ہوگی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہوگا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو ہم جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اکٹھی ہوتیں تو دیوار کے ساتھ اپنے ہاتھ لگا کر لمبائی ناپتیں، ہم یہی کرتی رہیں یہاں تک کہ سیدہ زینب بنت جحش بن رئاب رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں، وہ قد میں چھوٹی تھیں اور ہم میں سب سے لمبے ہاتھ والی نہیں تھیں، تو ہمیں معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کی مراد ہاتھ کی لمبائی سے صدقہ تھا، وہ ایک محنتی عورت تھیں، اپنے ہاتھوں سے کام کرتیں اور اللہ کی راہ میں اس کا صدقہ کرتیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20504
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 50، حدیث 133