المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر تزويج النبي صلى الله عليه وسلم زينب، وذكر سنها، ووفاتها، ومن أخبارها باب: نبی کریم ﷺ کے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ذکر، ان کی عمر اور وفات کا بیان، اور ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 20495
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: " خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ وَهِيَ بِنْتُ عَمَّتِهِ وَهُوَ يُرِيدُهَا لِزَيْدٍ فَظَنَّتْ أَنَّهُ يُرِيدُهَا لِنَفْسِهِ، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنَّهُ يُرِيدُهَا لِزَيْدٍ أَبَتْ، فَأَنْزَلَ اللهُ: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهُمْ} [الأحزاب: ٣٦] فَرَضِيَتْ وَسَلَّمَتْ "ترجمہ
قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا، اور وہ آپ ﷺ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں، اور آپ ﷺ انہیں زید کے لیے چاہتے تھے، تو وہ سمجھیں کہ آپ ﷺ اپنے لیے چاہتے ہیں، پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ ﷺ انہیں زید کے لیے چاہتے ہیں تو انہوں نے انکار کیا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کے لیے یہ روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ کر دیں تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے“ [الاحزاب: 36]، تو وہ راضی ہو گئیں اور تسلیم کر لیا۔