المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر تزويج النبي صلى الله عليه وسلم زينب، وذكر سنها، ووفاتها، ومن أخبارها باب: نبی کریم ﷺ کے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ذکر، ان کی عمر اور وفات کا بیان، اور ان کے احوال میں سے
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَّالًا مُبِينًا} [الأحزاب: ٣٦] قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَكَانَتْ بِنْتَ عَمَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَخَطَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضِيَتْ وَظَنَّتْ أَنَّهُ يَخْطُبُهَا عَلَى نَفْسِهِ، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنَّهُ يَخْطُبُهَا عَلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَبَتْ وَأَنْكَرَتْ، فَأَنْزَلَ اللهُ: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ} [الأحزاب: ٣٦] " الْآيَةُقتادہ رحمہ اللہ آیت ”کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کے لیے یہ روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا“ [الاحزاب: 36] کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ آیت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی، اور وہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں نکاح کا پیغام دیا تو وہ راضی ہو گئیں اور سمجھیں کہ آپ ﷺ اپنے لیے پیغام دے رہے ہیں، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ ﷺ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے پیغام دے رہے ہیں تو انہوں نے انکار کیا اور ناپسند کیا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کے لیے یہ روا نہیں...“ الآیہ۔