المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
العالية بنت سبيع، عن ميمونة باب: عالیہ بنت سبیع کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20413
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي بَكَّارٍ الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جِنَازَةٍ فَقَالَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنُ شَفَاعَتُكُمْ، وَلَوْ خُيِّرْتُ رَجُلًا لَاخْتَرْتُهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ، وَكَانَ أَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ» قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: " الْأُمَّةُ: الْأَرْبَعُونَ إِلَى الْمِائَةِ "ترجمہ
ابو بکار حکم بن فروخ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابو الملیح کے ساتھ ایک جنازے کی نماز پڑھی تو انہوں نے کہا: اپنی صفیں سیدھی کر لو اور تمہاری سفارش اچھی ہونی چاہیے، اور اگر مجھے کسی آدمی کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا تو میں اسی کو منتخب کرتا۔ ہمیں عبداللہ بن ابی السلیل نے نبی کریم ﷺ کی ایک زوجہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، اور وہ ان کے رضاعی بھائی تھے، کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان مرد کی نمازِ جنازہ ایک جماعت پڑھے، اس کے حق میں ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔“ ابو الملیح کہتے ہیں: ”اُمّت سے مراد چالیس سے سو تک ہے۔“