المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن رافع، عن أم سلمة باب: عبداللہ بن رافع کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20299
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّمْلِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا بَيْنَمَا هِيَ تَمْتَشِطُ لَمْ يَرُعْهَا إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ أُتِيَ بِكُمْ رُفْقَةً رُفْقَةً، فَذَهَبَتْ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ هَهُنَا وَهَهُنَا، فَقُلْتُ مَا لَهُمْ هَلُمُّوا إِلَيَّ فَصَرَخَ صَارِخٌ فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَقُلْتُ: سُحْقًا سُحْقًا "ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بار وہ کنگھی کر رہی تھیں کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کی منبر پر یہ پکار ان کے کانوں میں پڑی، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! میں حوض پر ہوں گا کہ تمہیں گروہ در گروہ میرے سامنے لایا جائے گا، پھر تم میں سے کچھ لوگ اِدھر اُدھر ہٹ جائیں گے، تو میں کہوں گا: انہیں کیا ہوا، میرے پاس آؤ! تو ایک پکارنے والا پکارے گا اور کہے گا: انہوں نے تمہارے بعد نئی باتیں نکال لی تھیں، تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ!“