المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك — باب باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حدیث نمبر: 19599
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومَسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لَسْتُ أَتَعَجَّبُ مِنْ بَصَرِكِ بِالشِّعْرِ، أَقُولُ: زَوْجَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنَةُ عَلَّامَةِ النَّاسِ، وَلَكِنْ أَتَعَجَّبُ مِنْ بَصَرِكِ بِالطِّبِّ، فَقَالَتْ: «يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا طُعِنَ فِي السِّنِّ سَقِمَ فَوَرَدَتِ الْوُفُودُ فَنُعِتَ لَهُ فَمِنْ ثَمَّ»ترجمہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین! مجھے آپ کے شعر کے علم پر تعجب نہیں، کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ اور لوگوں کے سب سے بڑے عالم (ابوبکر) کی بیٹی ہیں، لیکن مجھے آپ کی طب کی سمجھ پر تعجب ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! جب رسول اللہ ﷺ عمر کے آخری حصے میں پہنچے تو بیمار ہوئے، تو وفود آتے رہے اور آپ ﷺ کے لیے دوائیں تجویز کی جاتی رہیں، اسی سے (میں نے طب سیکھی)۔“