حدیث نمبر: 19599
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومَسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لَسْتُ أَتَعَجَّبُ مِنْ بَصَرِكِ بِالشِّعْرِ، أَقُولُ: زَوْجَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنَةُ عَلَّامَةِ النَّاسِ، وَلَكِنْ أَتَعَجَّبُ مِنْ بَصَرِكِ بِالطِّبِّ، فَقَالَتْ: «يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا طُعِنَ فِي السِّنِّ سَقِمَ فَوَرَدَتِ الْوُفُودُ فَنُعِتَ لَهُ فَمِنْ ثَمَّ»
ترجمہ

…(کسی نے) سیدہ عائشہ سے کہا: اے ام المومنین! مجھے آپ کی شعر کی سمجھ پر تعجب نہیں، میں کہتا ہوں آپ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ اور لوگوں کے سب سے بڑے عالم کی بیٹی ہیں، لیکن مجھے آپ کی طب کی سمجھ پر تعجب ہے۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھانجے! جب رسول اللہ ﷺ عمر کے آخری حصے میں بیمار ہوئے تو وفود آتے رہے اور آپ ﷺ کے لیے (دوائیں) تجویز کی جاتی رہیں، اسی سے (میں نے طب سیکھی)۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19599
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 182، حدیث 295