المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
قصة الإفك، وما أنزل الله من براءتها باب: واقعہ افک، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت میں جو نازل فرمایا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ أُمَّ رُومَانَ حَدَّثَتْهُمْ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ، عِنْدَ عَائِشَةَ إِذْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: فَعَلَ اللهُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ وَفَعَلَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَمَا هُوَ؟، قَالَتْ: كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ: فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَتْ عَائِشَةُ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ، فَطُرِحَ عَلَيْهَا الثِّيَابُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ مُضْطَجِعَةٌ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُهَا؟» ، قَالُوا: أَخَذَتْهَا الحُمَّى بِنَافِضٍ، قَالَ: «فلَعَلَّهُ فِي حَدِيثٍ حُدِّثَتْ» ، فَقَعَدَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنِ اعْتَذَرْتُ لَا تَعْذُرُونِي، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مَثَلُ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ {وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: ١٨] ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ عُذْرُهَا، فَقَالَتْ: بِحَمْدِ اللهِ لَا بِحَمْدِكَ - أَوْ قَالَتْ: - بِحَمْدِ اللهِ لَا بِحَمْدِ أَحَدٍ…انہوں نے کہا: ہاں۔ راوی کہتی ہیں: سیدہ عائشہ بےہوش ہو کر گر پڑیں، اور جب ہوش میں آئیں تو انہیں کپکپی والا بخار چڑھا ہوا تھا، ان پر کپڑے ڈال دیے گئے۔ نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ وہ لیٹی ہوئی تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”انہیں کیا ہوا؟“ لوگوں نے کہا: انہیں کپکپی والا بخار چڑھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید کسی بات کے بتائے جانے کی وجہ سے ہو۔“ سیدہ عائشہ بیٹھ گئیں اور کہا: اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں تو تم میری تصدیق نہیں کرو گے، اور اگر میں معذرت کروں تو تم مجھے معذور نہیں سمجھو گے، اور میری اور تمہاری مثال یعقوب اور ان کے بیٹوں جیسی ہے: ”اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے“ [سورۃ یوسف: 18]۔ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے تو ان کا عذر نازل ہو گیا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی حمد کے ساتھ، آپ کی تعریف کے بغیر — یا کہا: اللہ کی حمد کے ساتھ، کسی کی تعریف کے بغیر۔