المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
قصة الإفك، وما أنزل الله من براءتها باب: واقعہ افک، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت میں جو نازل فرمایا
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعَرَبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ سَافَرَ بِبَعْضِ نِسَائِهِ وَيُقْسِمُ بَيْنَهُمْ، فَسَافَرَ بِعَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ لَهَا هَوْدَجٌ، وَكَانَ الْهَوْدَجُ لَهُ رِجَالٌ يَحْمِلُونَهُ وَيَضَعُونَهُ، فَعَرَّسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ لِلْحَاجَةِ، فَتَبَاعَدَتْ فَلَمْ يُعْلَمْ بِهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ قَدِ ارْتَحَلُوا، وَجَاءَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْهَوْدَجَ فَحَمَلُوهُ وَلَا يَعْلَمُونَ إِلَّا أَنَّهَا فِيهِ، فَسَارُوا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ فَوَجَدَتْهُمْ قَدِ ارْتَحَلُوا، فَجَلَسَتْ مَكَانَهَا، فَاسْتَيْقَظَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ، وَكَانَ لَا يَقْرَبُ النِّسَاءَ، فَتَقَرَّبَ مِنْهَا، وَكَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ لَهُ، فَلَمَّا رَآهَا حَمَلَهَا، وَقَدْ كَانَ يَرَاهَا قَبْلَ الْحِجَابِ، وَجَعَلَ يَقُودُ بِهَا الْبَعِيرَ حَتَّى أَتَوُا النَّاسَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَائِشَةُ وَأَكْثَرُوا الْقَوْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى اعْتَزَلَهَا، وَاسْتَشَارَ فِيهَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَغَيْرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ دَعْهَا لَعَلَّ اللهَ أَنْ يُحَدِّثَ لَكَ فِيهَا، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: النِّسَاءُ كَثِيرٌ، فَحَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ لَيْلَةً تَمْشِي فِي نِسَاءٍ فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بِئْسَ مَا قُلْتِ، تَقُولِينَ هَذَا لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ؟، فَقَالَتْ: إِنَّكِ مَا تَدْرِينَ مَا يَقُولُونَ، وَأَخْبَرَتْهَا الْخَبَرَ، فَسَقَطَتْ عَائِشَةُ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ بِعُذْرِهَا فِي سُورَةِ النُّورِ {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} - حَتَّى بَلَغَ - {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: ١١] وَنَزَلَ {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ} - إِلَى قَوْلِهِ - {وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [البقرة: ٢١٨] ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْطِي مِسْطَحًا وَيَبَرُّهُ وَيَصِلُهُ، وَكَانَ مِمَّنْ أَكْثَرَ عَلَى عَائِشَةَ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يُعْطِيَهُ شَيْئًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ} [النور: ٢٢] فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهَا وَيُبَشِّرَهَا، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرَهَا بِعُذْرِهَا وَبِمَا أَنْزَلَ اللهُ، فَقَالَتْ: لَا بِحَمْدِكَ وَلَا بِحَمْدِ صَاحِبِكَابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر کرتے تو اپنی بعض ازواج کو ساتھ لے جاتے اور ان کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ ایک بار آپ ﷺ سیدہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو لے کر سفر پر نکلے، ان کا ایک ہودج تھا اور اس ہودج کے کچھ آدمی مقرر تھے جو اسے اٹھاتے اور رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے پڑاؤ کیا، سیدہ عائشہ کسی ضرورت کے لیے نکلیں تو دور نکل گئیں اور ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو سکا، تو نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے جبکہ لوگ کوچ کر چکے تھے، اور ہودج اٹھانے والے آئے تو انہوں نے اسے اٹھا لیا اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ وہ اس میں ہیں، تو وہ روانہ ہو گئے۔ سیدہ عائشہ واپس آئیں تو دیکھا کہ لوگ کوچ کر چکے ہیں، تو وہ اپنی جگہ بیٹھ گئیں۔ انصار میں سے ایک آدمی، جسے صفوان بن معطل کہا جاتا تھا، بیدار ہوا، وہ عورتوں کے قریب نہیں جایا کرتا تھا، تو وہ ان کے قریب آیا، اور اس کے ساتھ اس کا اونٹ تھا۔ جب اس نے انہیں دیکھا تو انہیں سوار کر لیا، اور وہ حجاب سے پہلے انہیں دیکھ چکا تھا، اور وہ اونٹ کو کھینچتا ہوا لے چلا یہاں تک کہ وہ لوگوں کے پاس، نبی کریم ﷺ کے پاس، پہنچے جبکہ سیدہ عائشہ اس کے ساتھ تھیں، تو لوگوں نے بہت باتیں بنائیں۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ کو یہ گراں گزری یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی، اور اس بارے میں زید بن ثابت اور دوسروں سے مشورہ کیا، تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں چھوڑ دیجیے، شاید اللہ آپ کے لیے ان کے بارے میں کوئی نئی بات ظاہر فرما دے۔ علی بن ابی طالب نے کہا: عورتیں بہت ہیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے ان سے سختی برتی۔ ایک رات سیدہ عائشہ کچھ عورتوں کے ساتھ چل رہی تھیں کہ مسطح کی والدہ گر پڑیں اور کہنے لگیں: مسطح ہلاک ہو! سیدہ عائشہ نے کہا: تم نے بری بات کہی، یہ بات تم رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی کے بارے میں کہہ رہی ہو؟ انہوں نے کہا: تمہیں معلوم نہیں کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں، اور انہیں پوری بات بتائی، تو سیدہ عائشہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ پھر قرآن سورۃ النور میں ان کی برأت میں نازل ہوا: ”بےشک جو لوگ یہ بہتان لے کر آئے ہیں وہ تم میں سے ایک گروہ ہیں“ سے لے کر ”اور جس نے ان میں سب سے بڑا حصہ اٹھایا، اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے“ [سورۃ النور: 11] تک، اور ”اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے لوگ قسم نہ کھائیں“ سے لے کر ”اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے“ [سورۃ النور: 22] تک نازل ہوا۔ ابوبکر مسطح کو دیتے اور ان سے نیک سلوک اور صلہ رحمی کرتے تھے، اور وہی سیدہ عائشہ پر سب سے زیادہ زبان درازی کرنے والوں میں سے تھے، تو ابوبکر نے قسم کھائی کہ وہ انہیں کچھ نہیں دیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟“ [سورۃ النور: 22]، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ سیدہ عائشہ کے پاس جا کر انہیں خوشخبری سنائیں۔ ابوبکر آئے اور انہیں ان کی براءت اور جو اللہ نے نازل فرمایا تھا اس کی خبر دی، تو انہوں نے کہا: نہ تمہاری تعریف سے، نہ تمہارے ساتھی کی تعریف سے۔