حدیث نمبر: 19464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَأُسَامَةَ فَاسْتَشَارَهُمَا» ، فَأَمَّا أُسَامَةُ فَقَالَ خَيْرًا، وَقَالَ: أَهْلُكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، وَهَذَا الْبَاطِلُ وَالْكَذِبُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ النِّسَاءَ لَكَثِيرٌ، وَإِنَّكَ لَقَادِرٌ أَنْ تَسْتَخْرِجَ وَتَسْأَلَ الْجَارِيَةَ فَإِنَّهَا سَتَصْدُقُ، وَذَكَرَ حَدِيثَ الْإِفْكِ
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے علی اور اسامہ کو بلایا اور ان سے مشورہ کیا۔ رہے اسامہ، تو انہوں نے بھلائی کی بات کی اور کہا: آپ کی اہلیہ ہیں، ہم ان کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے، اور یہ باطل اور جھوٹ ہے۔ رہے علی، تو انہوں نے کہا: عورتیں بہت ہیں، اور آپ (اصل صورتحال) نکالنے کی قدرت رکھتے ہیں، خادمہ سے پوچھ لیں، وہ سچ بتا دے گی — پھر (راوی نے) حدیثِ افک بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19464
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 122، حدیث 160