المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
قصة الإفك، وما أنزل الله من براءتها باب: واقعہ افک، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت میں جو نازل فرمایا
حدیث نمبر: 19463
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ عِقْدِي مَا كَانَ قَالَ أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَخَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ أُخْرَى فَسَقَطَ أَيْضًا عِقْدِي، حَتَّى حَبَسَ الْتِمَاسُهُ النَّاسَ، وَاطَّلَعَ الْفَجْرُ، فَلَقِيتُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ مَا شَاءَ اللهُ» ، وَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّةُ فِي سَفَرٍ تَكُونِينَ عَنَاءً وَبَلَاءً وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ الرُّخْصَةَ بِالتَّيَمُّمِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا وَاللهِ يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لِمَا عَلِمْتُ مُبَارَكَةٌترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: جب میرے ہار کا وہ واقعہ پیش آیا جو پیش آیا اور اہلِ افک نے وہ بات کہی جو کہی، تو میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک اور غزوے میں نکلی، تو دوبارہ میرا ہار گر گیا یہاں تک کہ اس کی تلاش نے لوگوں کو روک لیا، اور فجر طلوع ہو گئی۔ اس پر مجھے ابوبکر سے وہ سننا پڑا جو اللہ نے چاہا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: بیٹی! سفر میں تم مصیبت اور آزمائش بن گئی ہو، اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں ہے۔ اس پر اللہ نے تیمم کی رخصت نازل فرمائی۔ ابوبکر نے کہا: اللہ کی قسم! بیٹی! تم تو جہاں تک میں جانتا ہوں، برکت والی ہو۔