المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
قصة الإفك، وما أنزل الله من براءتها باب: واقعہ افک، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت میں جو نازل فرمایا
حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، وَزِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللهُ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا، ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ - زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى سَفَرٍ أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَمحمد بن یوسف زبیدی، ابوقرہ موسیٰ بن طارق کے واسطے سے بیان کرتے ہیں: زمعہ بن صالح نے یعقوب بن عطاء اور زیاد بن سعد کے حوالے سے، ابن شہاب سے، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کے واسطے سے، سیدہ عائشہ زوجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا ذکر کیا جب اہلِ افک نے ان کے بارے میں وہ بات کہی جو کہی، پھر اللہ نے انہیں بےگناہ قرار دیا۔ ہر ایک نے مجھے ان کی حدیث کا ایک حصہ سنایا، اور ان کی بعض روایات ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، اگرچہ ان میں سے بعض دوسروں کی نسبت ان کی حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے اور زیادہ مضبوط بیان کرنے والے تھے۔ ان سب نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ زوجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر پر جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے — اور پھر (راوی نے) پوری حدیث بیان کی۔