المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم كلثوم بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم توفيت في حياته باب: سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی، آپ ﷺ کی زندگی ہی میں وفات پائیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ثنا زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، قَالَ: تَزَوَّجَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُتَيْبَةُ بْنُ أَبِي لَهَبٍ، فَلَمْ يَبْنِ بِهَا حَتَّى بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ رُقْيَةُ عِنْدَ أَخِيهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: ١] ، قَالَ أَبُو لَهَبٍ لِابْنَيْهِ عُتَيْبَةَ، وَعُتْبَةَ: رَأْسِي مِنْ رَأْسِكُمَا حَرَامٌ إِنْ لَمْ تُطَلِّقَا ابْنَتَيْ مُحَمَّدٍ، وَقَالَتْ أُمُّهُمَا بِنْتُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ وَهِيَ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ: طَلِّقَاهُمَا يَا بَنِيَّ، فَإِنَّهُمَا قَدْ حَبَّتَاهُ فَطَلَّقَاهُمَا، وَلَمَّا طَلَّقَ عُتَيْبَةُ أُمَّ كُلْثُومٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ فَارَقَ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَقَالَ: كَفَرْتُ بِدِينِكَ وَفَارَقْتُ ابْنَتَكَ لَا تُحِبُّنِي وَلَا أُحِبُّكَ، ثُمَّ سَطَا عَلَيْهِ فَشَقَّ قَمِيصَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَارِجٌ نَحْوَ الشَّامِ تَاجِرًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنِّي أَسْأَلُ اللهَ أَنْ يُسَلِّطَ عَلَيْكَ كَلْبَهُ» ، فَخَرَجَ فِي تَجْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ حَتَّى نَزَلُوا بِمَكَانٍ مِنَ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ: الزَّرْقَاءُ لَيْلًا، فَأَطَافَ بِهِمُ الْأَسَدُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَجَعَلَ عُتَيْبَةَ يَقُولُ: يَا وَيْلَ أُمِّي، هُوَ وَاللهِ آكِلِي كَمَا دَعَا عَلَيَّ مُحَمَّدٌ فَأَبْكَى ابْنَ أَبِي كَبْشَةَ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَأَنَا بِالشَّامِ فَعَدَا عَلَيْهِ الْأَسَدُ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ فَأَخَذَ بِرَأْسِهِ فَضَغَمَهُ ضَغْمَةً، فَقَتَلَهُ، قَالَ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ: فَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْأَسَدَ لَمَّا أَطَافَ بِهِمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ انْصَرَفُوا فَنَامُوا وَجَعَلَ عُتَيْبَةُ وَسْطَهُمْ فَأَقْبَلَ الْأَسَدُ يَتَخَطَّى حَتَّى أَخَذَ بِرَأْسِ عُتَيْبَةَ فَدَغَمَهُ وَخَلَفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَحِمَهُ اللهُ بَعْدَ رُقْيَةَ عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمَا…پھر اس نے آپ ﷺ پر حملہ کر کے نبی کریم ﷺ کا کرتا پھاڑ دیا، جبکہ آپ ﷺ تجارت کے لیے شام کی طرف روانہ ہونے والے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنا کتا تجھ پر مسلط کر دے۔“ پھر وہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کے ساتھ روانہ ہوا، یہاں تک کہ وہ شام کے ایک مقام پر رات کو ٹھہرے جسے زرقاء کہا جاتا تھا۔ اسی رات ایک شیر ان کے گرد چکر لگانے لگا تو عتیبہ کہنے لگا: ہائے میری ماں کی تباہی! اللہ کی قسم! یہ مجھے ضرور کھائے گا جیسا کہ محمد نے مجھ پر بددعا کی تھی۔ اس پر ابوکبشہ کے بیٹے (نبی کریم ﷺ) کے لیے وہ رونے لگا، حالانکہ وہ مکہ میں تھے اور یہ شام میں تھا۔ پھر شیر نے سب لوگوں میں سے اسی پر حملہ کیا اور اس کا سر پکڑ کر ایک بھرپور جھپٹا مارا اور اسے مار ڈالا۔ زہیر بن علاء کہتے ہیں: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے بتایا کہ جب اس رات شیر ان کے گرد چکر لگا رہا تھا تو وہ لوگ (خیمے کی طرف) لوٹ کر سو گئے اور عتیبہ کو اپنے درمیان رکھ لیا۔ اس پر شیر لوگوں کو پھلانگتا ہوا آیا یہاں تک کہ عتیبہ کا سر پکڑ کر اسے دبوچ لیا۔ سیدنا عثمان بن عفان رحمہ اللہ نے سیدہ رقیہ کے بعد سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔