المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر سن زينب ووفاتها ومن أخبارها باب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عمر، وفات اور احوال کا ذکر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي الرَّطِيلِ، ثنا حَبِيبُ بْنُ خَالِدٍ الْأَسَدِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهْتَمًّا شَدِيدَ الْحُزْنِ فَقُلْنَا لَا نُكَلِّمَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَإِذَا هُوَ لَمْ يَفْرُغْ مِنْ لَحْدِهِ فَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ هُنَيْهَةً، وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ فَرَغَ مِنَ الْقَبْرِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَرَأَيْتُهُ يَزْدَادُ حُزْنًا ثُمَّ إِنَّهُ فَرَغَ فَخَرَجَ فَرَأَيْتُهُ سُرَّ عَنْهُ فَتَبَسَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ مُهْتَمًّا حَزِينًا لَمْ نَسْتَطِعْ أَنْ نُكَلِّمَكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ سُرَّ عَنْكَ فَمِمَّ ذَاكَ؟، قَالَ: «كُنْتُ أَذْكُرُ ضِيقَ الْقَبْرِ وَغَمَّهُ وَضَعْفَ زَيْنَبَ فَكَانَ ذَلِكَ شَقَّ عَلَيَّ فَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهَا فَفَعَلَ، وَلَقَدْ ضُغِطَتْ ضَغْطَةً سَمِعَهَا مَنْ بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدہ زینب بنت رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا تو ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ سخت غمزدہ اور فکرمند تھے، تو ہم نے کہا: ہم آپ ﷺ سے بات نہیں کریں گے، یہاں تک کہ ہم قبر پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ ابھی لحد کھودنے سے فارغ نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم آپ ﷺ کے گرد بیٹھ گئے، آپ ﷺ کچھ دیر اپنے آپ سے باتیں کرتے رہے اور آسمان کی طرف دیکھتے رہے، پھر قبر تیار ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ اس میں اترے، تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ پھر جب آپ ﷺ فارغ ہو کر باہر تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی پریشانی دور ہو چکی تھی اور آپ ﷺ مسکرا رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو غمگین اور پریشان دیکھا، ہم آپ سے بات بھی نہ کر سکے، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ کی پریشانی دور ہو گئی، اس کی وجہ کیا تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے قبر کی تنگی اور اس کے غم اور زینب کی کمزوری کا خیال آ رہا تھا، یہ بات مجھ پر گراں گزری تو میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس میں تخفیف فرما دے، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اور واقعی انہیں ایک ایسا دباؤ لاحق ہوا جسے مشرق و مغرب کے درمیان جنوں اور انسانوں کے سوا ہر چیز نے سنا۔“