❮
❯
حدیث نمبر: 19254
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ خَرَجَتِ ابْنَتُهُ زَيْنَبُ مِنْ مَكَّةَ مَعَ كِنَانَةَ أَوِ ابْنِ كِنَانَةَ فَخَرَجُوا فِي أَثَرِهَا، فَأَدْرَكَهَا هَبَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ فَلَمْ يَزَلْ يَطْعُنُ بَعِيرَهَا بِرُمْحِهِ حَتَّى صَرَعَهَا، وَأَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا وَهُرِيقَتْ دَمًا فَتَحَمَّلَتْ، وَاشْتَجَرَ فِيهَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو أُمَيَّةَ فَقَالَتْ بَنُو أُمَيَّةَ: نَحْنُ أَحَقُّ بِهَا، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِهِمْ أَبِي الْعَاصِ، وَكَانَتْ عِنْدَ هِنْدَ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَكَانَتْ تَقُولُ لَهَا هِنْدٌ هَذَا فِي سَبَبِ أَبِيكِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: «أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَجِيءَ بِزَيْنَبَ» فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «فَخُذْ خَاتَمِي فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ» فَانْطَلَقَ زَيْدُ فَلَمْ يَزَلْ يَتَلَطَّفْ فلَقِيَ رَاعِيًا فَقَالَ: لِمَنْ تَرْعَى؟ فَقَالَ: لِأَبِي الْعَاصِ فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ الْغَنَمُ فَقَالَ: لِزَيْنَبَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ فَسَارَ مَعَهُ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ: هَلْ لَكَ فِي أَنْ أُعْطِيَكَ شَيْئًا تُعْطِيهَا إِيَّاهُ وَلَا تَذْكُرُهُ لِأَحَدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَعْطَاهُ الْخَاتَمَ وَانْطَلَقَ الرَّاعِي فَأَدْخَلَ غَنَمَهُ وَأَعْطَاهَا الْخَاتَمَ فَعَرَفَتْهُ فقَالَتْ: مَنْ أَعْطَاكَ هَذَا، قَالَ رَجُلٌ: قَالَتْ: فَأَيْنَ تَرَكْتَهُ؟ قَالَ: بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَسَكَتَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ خَرَجَتْ إِلَيْهِ فَلَمَّا جَاءَتْهُ قَالَ لَهَا: ارْكَبِي بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَعِيرِهِ، قَالَتْ: لَا وَلَكِنِ ارْكَبْ أَنْتَ بَيْنَ يَدَيَّ فَرَكِبَ وَرَكِبَتْ وَرَاءَهُ حَتَّى أَتَتْ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هِيَ خَيْرُ بَنَاتِي أُصِيبَتْ فِيَّ» فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ فَانْطَلَقَ إِلَى عُرْوَةَ فَقَالَ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ تَنْقُصُ فِيهِ حَقَّ فَاطِمَةَ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، وَإِنِّي أَنْتَقِصُ لِفَاطِمَةَ حَقًّا هُوَ لَهَا، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ إِنِّي لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَبَدًا
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی زوجہ، بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مکہ سے کنانہ یا ابنِ کنانہ کے ساتھ نکلیں، تو لوگ ان کے پیچھے نکلے، ہبار بن اسود ان تک جا پہنچا اور برابر اپنے نیزے سے ان کے اونٹ کو کچوکے لگاتا رہا یہاں تک کہ انہیں گرا دیا، اور ان کا حمل ساقط ہو گیا اور خون بہنے لگا، تو وہ اسے اٹھا کر (وہاں سے) لے گئے۔ اس معاملے میں بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان جھگڑا ہوا، تو بنو امیہ نے کہا: ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں، اور وہ ان کے بیٹے ابوالعاص کے نکاح میں تھیں، اور وہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں۔ ہند ان سے کہا کرتی تھیں: یہ سب تمہارے والد کی وجہ سے ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہ سے فرمایا: ”کیا تم جا کر زینب کو نہیں لے آؤ گے؟“ زید نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری انگوٹھی لے لو اور یہ انہیں دے دینا۔“ چنانچہ زید روانہ ہوئے اور نرمی سے راستہ طے کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی۔ زید نے پوچھا: تم کس کی بکریاں چراتے ہو؟ اس نے کہا: ابوالعاص کی۔ زید نے پوچھا: یہ بکریاں کس کی ہیں؟ اس نے کہا: زینب بنت محمد کی۔ زید کچھ دور تک اس کے ساتھ چلے، پھر کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایک چیز دوں جو تم انہیں دے دو اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو؟ اس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ زید نے اسے انگوٹھی دے دی۔ چرواہا روانہ ہوا، اپنی بکریاں اندر لے گیا اور وہ انگوٹھی سیدہ زینب کو دے دی۔ وہ اسے پہچان گئیں اور پوچھا: یہ تمہیں کس نے دی؟ اس نے کہا: ایک آدمی نے۔ انہوں نے پوچھا: تم نے اسے کہاں چھوڑا تھا؟ اس نے کہا: فلاں جگہ۔ سیدہ زینب خاموش رہیں، یہاں تک کہ جب رات ہوئی تو وہ نکل کر ان کے پاس گئیں۔ جب ان کے پاس پہنچیں تو زید نے کہا: میرے آگے اونٹ پر سوار ہو جائیں۔ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میرے آگے سوار ہو جاؤ۔ چنانچہ زید آگے سوار ہوئے اور وہ ان کے پیچھے سوار ہو گئیں، یہاں تک کہ پہنچ گئیں۔ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”یہ میری بیٹیوں میں سب سے بہتر ہیں، انہیں میری وجہ سے تکلیف پہنچی۔“ یہ بات علی بن حسین (زین العابدین) تک پہنچی تو وہ عروہ کے پاس گئے اور کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم ایسی بات بیان کرتے ہو جس میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں کمی معلوم ہوتی ہے؟ عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ مشرق و مغرب کی ساری دولت میرے پاس ہو اور میں فاطمہ کا کوئی حق، جو ان کا حق ہے، کم کر دوں۔ البتہ اب کے بعد میں یہ بات کبھی بیان نہیں کروں گا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19254
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 431، حدیث 1051