حدیث نمبر: 19239
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ: أَخْبِرِينِي، مَا الَّذِي أَبْكَاكِ ثُمَّ أَضْحَكَكِ؟ قَالَتْ: نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَقَالَ: «إِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي» فَضَحِكَتُ: قَالَتْ عَائِشَةُ، فَمَا عَاشَتْ بَعْدَهُ إِلَّا سِتَّةَ أَشْهُرٍ
ترجمہ

…پھر آپ ﷺ نے انہیں کسی بات کے لیے بلایا تو وہ ہنس پڑیں۔ جب آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو میں نے کہا: بتاؤ، کس چیز نے تمہیں رلایا پھر ہنسایا؟ انہوں نے کہا: انہیں ان کی موت کی خبر دی گئی تھی تو میں رو پڑی، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: ”تم میرے اہل میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملو گی“، تو میں ہنس پڑی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو وہ آپ ﷺ کے بعد صرف چھ ماہ زندہ رہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19239
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 420، حدیث 1036