المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روت عائشة أم المؤمنين، عن فاطمة رضي الله عنهما باب: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتٍ يُلَاعِبُنِي وَأُلَاعِبُهُ، إِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا فَاطِمَةُ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا فَأَقْعَدَهَا خَلْفَهُ وَنَاجَاهَا بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَنَظَرْتُ إِلَى فَاطِمَةَ تَبْكِي، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنِي وَلَاعَبَنِي، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهَا فَلَاعَبَهَا وَنَاجَاهَا بِشَيْءٍ فَنَظَرْتُ إِلَى فَاطِمَةَ، وَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ: مَا الَّذِي نَاجَاكِ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: «لَيْسَ كُلَّمَا أَسَرَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرُكِ بِهِ» ، قُلْتُ: أُذَكِّرُكِ اللهَ وَالرَّحِمَ، قَالَتْ: «أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَقْبُوضٌ قَدْ حَضَرَ أَجَلُهُ فَبَكَيْتُ لِفِرَاقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيَّ فَنَاجَانِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَلْحَقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَضَحِكْتُ لِلِقَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گھر میں تھی، آپ ﷺ مجھ سے کھیل رہے تھے اور میں آپ ﷺ سے کھیل رہی تھی، اتنے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہمارے پاس آئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھایا اور ان سے کوئی ایسی بات سرگوشی میں کہی جو مجھے معلوم نہیں، تو میں نے دیکھا کہ فاطمہ رو رہی تھیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھ سے باتیں کیں اور مجھ سے کھیلے، پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کھیلے اور ان سے کوئی بات سرگوشی میں کہی، تو میں نے سیدہ فاطمہ کو دیکھا اور وہ ہنس رہی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور باہر نکل گئے، تو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تم سے سرگوشی میں کیا کہا؟ انہوں نے کہا: ”ہر بات جو رسول اللہ ﷺ مجھ سے سرگوشی میں کہیں وہ میں تمہیں نہیں بتا سکتی۔“ میں نے کہا: میں تمہیں اللہ اور رشتے داری کا واسطہ دیتی ہوں۔ انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ ان کی وفات ہونے والی ہے، ان کا وقت آ چکا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے فراق پر رو پڑی۔ پھر آپ ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں بتایا کہ میں ان کے اہل بیت میں سب سے پہلے ان سے آ ملوں گی، تو میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی خوشی میں ہنس پڑی۔“