المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر تزويج فاطمة رضي الله عنها باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ، وَإِنِّي وَإِنِّي، قَالَ: «وَمَا ذَلِكَ؟» قَالَ: تُزَوِّجْنِي فَاطِمَةَ، فَسَكَتَ عَنْهُ أَوْ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتَ قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: خَطَبْتُ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقَالَ: مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطْلُبُ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْتَ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ، وَإِنِّي وَإِنِّي، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: تُزَوِّجْنِي فَاطِمَةَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَرَجَعَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللهِ فِيهَا، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى عَلِيٍّ حَتَّى نَأْمُرَهُ أَنْ يَطْلُبَ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْنَا، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَيَانِي وَأَنَا فِي سَبِيلٍ، فَقَالَا: بِنْتُ عَمِّكَ تُخْطَبُ، فَنَبَّهَانِي لِأَمْرٍ، فَقُمْتُ أَجُرُّ رِدَائِي طَرَفٌ عَلَى عَاتِقِي، وَطَرَفٌ آخَرُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْتَ قِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ وَمُنَاصَحَتِي، وَإِنِّي وَإِنِّي، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا عَلِيُّ؟» قُلْتُ: تُزَوِّجْنِي فَاطِمَةَ، قَالَ: «وَمَا عِنْدَكَ» ، قُلْتُ: فَرَسِي وَبُدْنِي، يَعْنِي دِرْعِي، قَالَ: «أَمَّا فَرَسُكَ، فَلَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ، وَأَمَّا دِرْعُكَ فَبِعْهَا» ، فَبِعْتُهَا بِأَرْبَعَ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهَا فِي حِجْرِهِ، فَقَبَضَ مِنْهَا قَبْضَةً، فَقَالَ: " يَا بِلَالُ، ابْغِنَا بِهَا طِيبًا، ومُرْهُمْ أَنْ يُجَهِّزُوهَا، فَجَعَلَ لَهَا سَرِيرًا مُشَرَّطًا بِالشَّرَيطِ، وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، وَمَلَأَ الْبَيْتَ كَثِيبًا، يَعْنِي رَمَلًا، وَقَالَ: «إِذَا أَتَتْكَ فَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكَ» فَجَاءَتْ مَعَ أُمِّ أَيْمَنَ فَقَعَدَتْ فِي جَانِبٍ الْبَيْتِ، وَأَنَا فِي جَانِبٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَهُنَا أَخِي» ، فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: أَخُوكَ قَدْ زَوَّجْتَهُ بِنْتَكَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِفَاطِمَةَ: «ائْتِينِي بِمَاءٍ» ، فَقَامَتْ إِلَى قَعْبٍ فِي الْبَيْتِ فَجَعَلَتْ فِيهِ مَاءً فَأَتَتْهُ بِهِ فَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهَا: «قَوْمِي» فَنَضَحَ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا وَعَلَى رَأْسِهَا ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: «أَدْبِرِي» ، فَأَدْبَرَتْ فَنَضَحَ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ، ثُمَّ قَالَ: «ائْتِينِي بِمَاءٍ» فَعَمِلْتُ الَّذِي يُرِيدُهُ، فَمَلَأْتُ الْقَعْبَ مَاءً فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ بِفِيهِ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِي وَبَيْنَ يَدَيْ ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ثُمَّ قَالَ: «ادْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ بِسْمِ اللهِ وَالْبَرَكَةِ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میری خیرخواہی اور اسلام میں میری سبقت جانتے ہیں، اور میں... اور میں... آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ فاطمہ کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے، یا فرمایا: آپ ﷺ نے ان سے اعراض کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور کہا: میں ہلاک ہو گیا اور تمہیں بھی ہلاک کر دیا۔ انہوں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ کہا: میں نے نبی کریم ﷺ سے فاطمہ کا رشتہ مانگا تو آپ ﷺ نے مجھ سے اعراض کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہیں ٹھہرو یہاں تک کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس جا کر وہی مانگ لوں جو تم نے مانگا۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میری خیرخواہی اور اسلام میں میری سبقت جانتے ہیں، اور میں... اور میں... آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ عرض کیا: آپ فاطمہ کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ تو آپ ﷺ نے ان سے بھی اعراض کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: آپ ﷺ اس بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں، چلو علی کے پاس چلتے ہیں تاکہ ہم انہیں بھی وہی مانگنے کا کہیں جو ہم نے مانگا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ دونوں میرے پاس آئے جبکہ میں راستے پر تھا، تو انہوں نے کہا: تمہارے چچا کی بیٹی کا رشتہ مانگا جا رہا ہے، تو انہوں نے مجھے اس بات پر متوجہ کیا، تو میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا کھڑا ہوا، ایک کنارہ میرے کندھے پر اور دوسرا زمین پر تھا، یہاں تک کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اسلام میں میری سبقت اور میری خیرخواہی جانتے ہیں، اور میں... اور میں... آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے، اے علی؟“ میں نے عرض کیا: آپ فاطمہ کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرا گھوڑا اور میری زرہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے گھوڑے کی تو تمہیں ضرورت ہے، البتہ اپنی زرہ بیچ دو۔“ چنانچہ میں نے اسے چار سو اسی درہم میں بیچا اور نبی کریم ﷺ کے پاس لے آیا اور آپ ﷺ کی گود میں رکھ دیا، آپ ﷺ نے اس میں سے ایک مٹھی اٹھائی اور فرمایا: ”اے بلال! ہمارے لیے اس سے خوشبو خرید لاؤ، اور انہیں حکم دو کہ اس کو تیار کریں۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ان کے لیے کھجور کی چھال سے بنا ہوا تخت اور چمڑے کا تکیہ، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، مہیا کیا، اور گھر کو ریت سے بھر دیا۔ اور فرمایا: ”جب وہ تمہارے پاس آئے تو میرے آنے تک کچھ نہ کرنا۔“ تو وہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ آئیں اور گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں، اور میں دوسرے کونے میں تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”میرا بھائی یہاں ہے؟“ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ کا بھائی؟ آپ نے تو اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کیا ہے! تو نبی کریم ﷺ اندر داخل ہوئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”میرے پاس پانی لاؤ۔“ وہ گھر میں رکھے ایک برتن کی طرف اٹھیں اور اس میں پانی ڈالا اور آپ ﷺ کے پاس لے آئیں، آپ ﷺ نے اس میں کلی کی، پھر ان سے فرمایا: ”کھڑی ہو جاؤ۔“ تو انہوں نے ان کے سینے پر وہ پانی چھڑکا اور ان کے سر پر، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔“ پھر ان سے فرمایا: ”پیٹھ پھیرو۔“ تو انہوں نے پیٹھ پھیری، تو آپ ﷺ نے ان کے دونوں کندھوں کے درمیان چھڑکا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ”میرے پاس پانی لاؤ۔“ تو میں نے وہی کیا جو آپ ﷺ چاہتے تھے، برتن پانی سے بھر کر لایا، تو آپ ﷺ نے اس میں کلی کی، پھر میرے سر پر اور میرے سامنے ڈالا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کے نام سے اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔“