المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا خيرة أبو خيرة الصباحي باب: جن کی کنیت ابوخیرہ ہے — سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19127
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: ثنا شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْمُسَاوِرِ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي خَيْرَةَ الصَّبَّاحِيِّ، قَالَ: «كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَزَوَّدَنَا الْأَرَاكَ نَسْتَاكُ بِهِ» ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ «عِنْدَنَا الْجَرِيدُ وَلَكِنَّا نَقْبَلُ كَرَامَتَكَ وَعَطِيَّتَكَ» فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ إِذْ قَعَدَ قَوْمِي لَمْ يُسْلِمُوا إِلَّا خَزَايَا مَوْتُورِينَ»ترجمہ
سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عبدالقیس کے اس وفد میں شامل تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے ہمیں مسواک کے لیے پیلو کی ٹہنیاں عنایت فرمائیں۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس کھجور کی چھال بھی ہے، لیکن ہم آپ کی عزت افزائی اور عطیہ قبول کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عبدالقیس کو بخش دے، جب انہوں نے خوشی سے، بغیر مجبوری کے اسلام قبول کیا، جبکہ میری قوم بیٹھی رہی اور ذلیل و رسوا اور شکست خوردہ ہوئے بغیر اسلام نہ لائی۔“