حدیث نمبر: 19074
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرِّيَاحِيُّ، وأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: طَرَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: «أَبُو مُوَيْهِبَةَ انْطَلِقْ، فَإِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ هَذَا الْبَقِيعِ» ، فَانْطَلَقْتُ أَوْ قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَلَمَّا تَوَسَّطَ الْبَقِيعَ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْمَقَابِرِ، ثُمَّ قَالَ: «لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ لَوْ تَدْرُونَ مِمَّا نَجَّاكُمُ اللهُ مِنْهُ، أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ آخِرَهَا أَوَّلُهَا الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللهَ خَيَّرَنِي أَنْ يُؤْتِيَنِي خَزَائِنَ الْأَرْضِ وَالْخُلْدَ فِيهَا، ثُمَّ الْجَنَّةَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي؟» ، قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَخُذْ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَالْخُلْدَ فِيهَا، قَالَ: «كَلَّا يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدِ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْمَقَابِرِ وَانْصَرَفَ» ، فَلَمَّا أَصْبَحَ بَدَأَهُ شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، کہتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم ﷺ نے مجھے جگایا اور فرمایا: ”ابومویہبہ! چلو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس بقیع والوں کے لیے مغفرت طلب کروں۔“ چنانچہ میں چل پڑا، یا فرمایا: ہم چل پڑے۔ جب آپ ﷺ بقیع کے وسط میں پہنچے تو قبر والوں کے لیے مغفرت طلب کی، پھر فرمایا: ”تمہیں مبارک ہو اس حال پر جس میں تم صبح کرتے ہو، اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ نے تمہیں کس چیز سے بچایا ہے۔ فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح آ رہے ہیں، ان کا پچھلا حصہ اگلے حصے کے پیچھے آتا ہے، اور بعد والا پہلے سے زیادہ برا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے ابومویہبہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ مجھے زمین کے خزانے اور اس میں ہمیشگی عطا کی جائے، پھر جنت، یا اپنے رب سے ملاقات؟“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، زمین کے خزانوں اور ان میں ہمیشگی کی کنجیاں لے لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، اے ابومویہبہ! میں نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی ہے۔“ پھر قبر والوں کے لیے مغفرت طلب کی اور واپس چلے آئے۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ کی وہ بیماری شروع ہوئی جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19074
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 346، حدیث 871