المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا كبشة أبو كبشة الأنماري باب: جن کی کنیت ابوکبشہ ہے — سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلُ أَرْبَعَةِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ يُنْفِقُهُ فِي حَقَّهِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مثْلُ مَالِ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ بِالَّذِي يَعْمَلُ "، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ يُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ، وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللهُ عِلْمًا وَلَا مَالًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَالِ فُلَانٍ عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ "، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ»سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس امت کی مثال چار آدمیوں کی سی ہے: ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال اور علم دونوں عطا کیے، تو وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہے اور اسے اس کے (صحیح) حق میں خرچ کرتا ہے، اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے علم دیا مگر مال نہیں دیا، تو وہ کہتا ہے: کاش میرے پاس بھی اس جیسا مال ہوتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جیسے وہ کرتا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دونوں اجر میں برابر ہیں۔ اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا مگر علم نہیں دیا، تو وہ اپنے مال میں اندھا دھند خرچ کرتا ہے اور اسے ناحق میں لٹاتا ہے، اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے نہ علم دیا نہ مال، تو وہ کہتا ہے: کاش میرے پاس بھی فلاں جیسا مال ہوتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جیسے وہ کرتا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں۔“