المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا كبشة أبو كبشة الأنماري باب: جن کی کنیت ابوکبشہ ہے — سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي الْبُحْتُرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ إِنَّمَا هِيَ أَهْلُ الدُّنْيَا أَرْبَعَةُ نَفَرٍ: عَبْدٌ رَزَقَهُ اللهُ فِيهَا مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ، يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهِيَ نِيَّتِهُ وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ "سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اسے یاد رکھو: دنیا والے چار طرح کے ہیں: ایک بندہ جسے اللہ نے دنیا میں مال اور علم دونوں دیے، تو وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اللہ کے حق کے مطابق اس میں عمل کرتا ہے، یہ شخص سب سے بہترین درجے پر ہے۔ اور ایک بندہ جسے اللہ نے علم دیا مگر مال نہ دیا، تو وہ سچی نیت رکھتا ہے، کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں جیسا عمل کرتا، تو ان دونوں کا اجر برابر ہے۔ اور ایک بندہ جسے اللہ نے مال دیا مگر علم نہ دیا، تو وہ بغیر علم کے اپنے مال میں الجھتا رہتا ہے، نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اللہ کا حق ادا کرتا ہے، یہ شخص سب سے بدترین درجے پر ہے۔ اور ایک بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا نہ علم، تو وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں جیسا عمل کرتا، تو یہی اس کی نیت ہے اور دونوں کا گناہ برابر ہے۔“