❮
❯
حدیث نمبر: 18969
حَدَّثَنَا جَبْرُونَ بْنُ عِيسَى الْمَغْرِبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجَفْرِيُّ الْمَغْرِبِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ضَرَبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا فَخَرَجُوا فَرَجَعَ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَلَمْ تَكُنْ خَرَجْتَ مَعَ النَّاسِ؟، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَضَعَهُ عِنْدَكَ مَخَافَةَ أَنْ لَا تَلْقَانِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ عَمَلًا فَحَجَبَ بَابَهُ عَنْ ذِي حَاجَةِ الْمُسْلِمِينَ حَجَبَهُ اللهُ أَنْ يَلِجَ بَابَ الْجَنَّةِ، وَمَنْ كَانَتْ هِمَّتُهُ الدُّنْيَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ جَوَارِيَ، فَإِنِّي بُعِثْتُ بِخَرابِ الدُّنْيَا وَلَمْ أُبْعَثْ بِعَمَارَتِهَا»
ترجمہ

عون بن ابی جحیفہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا، تو لوگ نکل کھڑے ہوئے، لیکن سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ واپس آ گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا تم لوگوں کے ساتھ نہیں نکلے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی تھی، میں نے چاہا کہ اسے تمہارے پاس امانت رکھ دوں، اس ڈر سے کہ کہیں دوبارہ ملاقات نہ ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام کا والی بنے اور مسلمانوں کے حاجت مندوں سے اپنا دروازہ بند کر لے، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کا دروازہ بند کر دے گا، اور جس کی ہمت دنیا ہی ہو، اللہ اس پر میرا پڑوس (میری ہمسائیگی) حرام کر دے گا، کیونکہ مجھے دنیا کو ویران کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، اسے آباد کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 18969
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 301، حدیث 765