المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا حيوة أبو حيوة أبو أبي رجاء بن حيوة الكندي مولى لهم باب: جن کی کنیت ابوحیوہ ہے — سیدنا ابوحیوہ رضی اللہ عنہ، ابورجاء بن حیوہ کندی کے والد، بنو کندہ کے آزاد کردہ غلام تھے
حدیث نمبر: 18970
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ جَارِيَةً مِنْ خَيْبَرَ مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ مُجِحٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَنْ هَذِهِ؟» ، قَالُوا: لِفُلَانٍ، قَالَ: «أَيَطَؤُهَا؟» ، قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكَيْفَ يَصْنَعُ بِوَلَدِهَا؟ أَيَدَّعِيهِ وَلَيْسَ لَهُ بِوَلَدٍ أَمْ يَسْتَعْبِدُهُ وَهُوَ يَغْدُو فِي سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ»ترجمہ
سیدنا ابوحیوہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کی ایک لونڈی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزری جبکہ وہ زچگی کے قریب حاملہ تھی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ کس کی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: فلاں کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا وہ اس سے مباشرت کرتا ہے؟“ عرض کیا گیا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ اس کے بچے کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا وہ اسے اپنا بیٹا مانے گا جبکہ وہ اس کا بیٹا نہیں، یا اسے غلام بنائے گا جبکہ وہ اسی کے سمع و بصر سے پروان چڑھا ہے؟ میں نے تو چاہا تھا کہ اسے ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ قبر میں بھی جائے۔“