المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن حفص بن أبي عقيل وقد اختلف في اسمه، عن يعلى بن مرة باب: عبداللہ بن حفص بن ابی عقیل (ان کے نام میں اختلاف ہے) کی سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18892
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ بِزَعْفَرَانَ، فَقَالَ: «يَا يَعْلَى، هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟» فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «اذْهَبْ فَأَغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ» قَالَ: فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْترجمہ
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ میں زعفران کی خوشبو لگائے ہوئے تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یعلی! کیا تمہاری کوئی بیوی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے دھو ڈالو، پھر دھو ڈالو، پھر دھو ڈالو، اور آئندہ ایسا نہ کرنا۔“ کہتے ہیں: میں گیا اور دھویا، پھر دھویا، پھر دھویا، اور دوبارہ ایسا نہیں کیا۔