المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن حفص بن أبي عقيل وقد اختلف في اسمه، عن يعلى بن مرة باب: عبداللہ بن حفص بن ابی عقیل (ان کے نام میں اختلاف ہے) کی سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18891
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ: «يَا يَعْلَى، أَلَكَ امْرَأَةٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ» ، قَالَ: فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْترجمہ
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ میں خوشبو لگائے ہوئے تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یعلی! کیا تمہاری کوئی بیوی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے دھو ڈالو، پھر دھو ڈالو، پھر دھو ڈالو، اور آئندہ ایسا نہ کرنا۔“ کہتے ہیں: میں نے دھویا، پھر دھویا، پھر دھویا، اور دوبارہ ایسا نہیں کیا۔